Header Ads Widget

Responsive Advertisement

Poetry

  





 کچھ بات ہے کہ خیال یار آیا =
-ایک بار نہ ہی بلکہ بار بار آیا=
 

بھول چکا تھا سب چوٹیں دل کی=
-یہ کیا کہ پھر زخم فگار آیا=
 

وہ زمانے کی سازش وہ اپنوں کا ستم=
-کچھ نہیں بس یاد اک اک وار آیا=
 

بتائے تو کوئی جا کہ صاحب کو=
-چلتے چلتے یہاں تک اس کا طلبگار آیا=
 

عامر نہ کر جیت کی لگن اب =
-جانے کب کا ہے تو ہار آیا =
 

Post a Comment

0 Comments